334 شاعری ملی
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
تاج تیرے لیے اک مظہرِ الفت ہی سہی تجھ کو اس وادیِ رنگیں سے عقیدت…
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل میری کہانی ہے
یہ کوٹھے، یہ بازار، یہ چکلے، یہ گندی نالیاں یہ بیچتی ہوئی عورت، یہ خریدتے…
اٹھ میری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے زندگی جہد میں ہے سب کچھ،…
یہی تو ہے وہ مکاں، جسے تم نے بنایا ہے یہی تو ہے وہ دیوار،…
بہار آئی تو جیسے یک بار لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
دورِ غم میں بھی یہ لب خنداں رہے غم کی اس رہگزر میں ہم تنہا…
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر ہم غریبوں کی محبت کا اُڑایا ہے…
ایک محل ہو خواب سا جس میں ہم ہوں تم بھی ہو
یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں غموں کی دھوپ کے آگے خوشی…
کیا دن تھے جب ہم ایک ہوا کرتے تھے اب تو یادیں بھی جدا ہو…