334 شاعری ملی
زندگی ایک نظم ہے، جو ہر پل بدلتی ہے کبھی ہنستی، کبھی روتی، کبھی چپ…
میں اکیلا چلا تھا جانبِ منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
یہی انداز ہے میرا زمانے والوں ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
ہم بھی وہاں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا گیا ہم پر بھی الزام…
پھول تو کھلتے ہیں خوشبو نہیں ملتی دل کو تسلی ہے تنہا نہیں ہم
جانے کس دل پہ ٹھہر جاتی ہے جا کر باتیں کتنی سادہ سی لگتی ہیں…
تنہا تھا اور ہمیشہ تنہا ہی رہا میں لوگ آتے رہے کارواں بنتا رہا میں
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول…
دل تو دل وہ دماغ بھی لے گیا ساتھ ہی ساتھ اُس کا خیال بھی…
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا بس یہی بات ہے اچھی مرے…
جس میں جذبہ ہو وہ دنیا کو بدل سکتا ہے وہ جو پیچھے بیٹھا تھا،…
یادوں کا کچھ تو اثر ہے، مگر ہم ہیں کہ چپ ہیں دل کی دھڑکنوں…