کاپی ہو گیا ✓
غزل

آج تو بے سبب اداس ہے جی

از: ناصر کاظمی

111 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

آج تو بے سبب اداس ہے جی 
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں
 جانے کیا چیز کھو گئی میری

وہیں پھرتا ہوں میں بھی خاک بسر 
اس بھرے شہر میں ہے ایک گلی

چھپتا پھرتا ہے عشق دنیا سے
 پھیلتی جا رہی ہے رسوائی

ہم نشیں کیا کہوں کہ وہ کیا ہے چھوڑ
یہ بات نیند اڑنے لگی

آج تو وہ بھی کچھ خموش سا تھا
 میں نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی

ایک دم اس کے ہونٹ چوم لیے 
یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی

ایک دم اس کا ہاتھ چھوڑ دیا
 جانے کیا بات درمیاں آئی

تو جو اتنا اداس ہے ناصرؔ 
تجھے کیا ہو گیا بتا تو سہی

ناصر رضا کاظمی پاکستان کے ایک اردو شاعر تھے۔ کاظمی 8 دسمبر 1925 کو امبالہ، پنجاب، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ کاظمی نے اپنی شاعری میں سادہ الفاظ استعمال کیے،…