258 شعر ملی
ابتداء عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
محبتوں کا جنازہ اٹھا رہا ہوں میںیہ میرا دل ہے جو خود کو جلا…
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول…
میں کہاں رکھتا ہوں دکھ اپنے زمانے کے لیےاک تیری خاطر بہت دکھ سہے…
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغلوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے…
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اُس کے شہر میں کچھ…
میں جس کے ہاتھ میں اک جام دے کے آیا تھااسی کے ہاتھ میں…
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھااپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
چاہتے ہو تم کہ میں بدل جاؤںخود کو کھو دوں، تمہیں حاصل ہو جاؤں؟
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازدوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیںیہ بات ہے تو چلو بات…