258 شعر ملی
کلرک کا نغمۂ محبتشام کو راستے پرتمہیں معلوم ہے تیمور کی فوجیں جس وقت
الجھن کی کہانیسمندر کا بلاوارس کی انوکھی لہریں
ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیابیٹھ اکیلے رونا ہوگا
مجھے چاہے نہ چاہے دل تیراتو مجھ کو چاہ بڑھانے دے
لب پر ہے فریاد کہ ساقییہ کیسا میخانہ ہے
نارسائیرات اندھیری بن ہے سوناکوئی نہیں ہے ساتھ
نگری نگری پھرا مسافرگھر کا رستہ بھول گیا
زندگی ایک اذیت ہے مجھےپیارے لمحے آئیں گے اورمجبوری مٹ جائے گی
دھب دیکھے تو ہم نے جانادل میں دھن بھی سمائی ہے
دیدۂ اشک بار ہے اپنادل محو جمال ہو گیا ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے…
یہ عشق نہیں آسان اتنا ہی سمجھ لیجےاک آگ کا دریا ہے اور ڈوب…