حشر تک روئے گا مظلومی پہ تیری عالم
تیرا ماتم نہیں ہووے گا جہاں میں کبھی کم
روضۂ پاک کو تیرے یہ شرف بخشیں گے ہم
آئیں گے جس کی زیارت کو ملک ہو کے بہم
یہ زمیں عرش سے رتبے میں سوا ہووے گی
خاکِ تربت کی تری خاکِ شفا ہووے گی
یہ صدا سن کے ہوئے شاد شہِ ہر دو سرا
آ گئی از سرِ نو جسم میں طاقت گویا
جھک کے سجدے کی طرف عجز سے رو کر یہ کہا
میرے مولا! میں تری بندہ نوازی کے فدا
کیوں نہ ممتاز ہو وہ، تو جسے رتبہ بخشے
اس کفِ خاک کو کیا رتبۂ اعلیٰ بخشے
ابھی مولا نے سرِ عجز اٹھایا نہ تھا، آہ!
نیزہ اک چھاتی پہ مارا جو کسی نے ناگاہ
غش میں گرنے لگے گھوڑے سے امامِ ذی جاہ
آئی خاتونِ قیامت کی صدا: "بسم اللہ!"
تھامنے آئے علیؑ خلد سے گھبرائے ہوئے
دوڑے محبوبِ خدا ﷺ ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے
اک جفا کیش نے پھر پہلو پہ نیزہ مارا
چھد گیا توڑ کے چھاتی کو کلیجہ سارا
پشتِ تازی پہ سنبھلنے کا نہ پایا یارا
گر پڑا خاک پہ وہ عرشِ خدا کا تارا
گرد آلود قبائے شہِ پرنور ہوئی
ریت زخموں کے لیے مرہمِ کافور ہوئی
خاک و خوں میں جو تڑپتے تھے شہنشاہِ زمن
گل کے مانند کھلے جاتے تھے سب زخمِ بدن
طلبِ آب میں کھولے ہوئے تھے خشک دہن
گرد کھینچے ہوئے تلواریں کھڑے تھے دشمن
غمِ ناموس بھی تھا، پیاس کی بھی شدت تھی
پھر سکینہؑ کو نہ دیکھ آئے، یہی حسرت تھی
کان میں آتی تھی زینبؑ کے صدائے جاں کَاہ
دل تڑپ جاتا تھا، کرتے تھے عجب درد سے آہ
راہ روکے ہوئے خیمے کی کھڑے تھے گمراہ
نیم وا چشم سے کرتے تھے سوئے خیمہ نگاہ
تنِ زخمی پہ جو پیکانِ ستم گڑتے تھے
خاک سے اٹھتے تھے اور کانپ کے گر پڑتے تھے
کہتا تھا فوج میں سب سے عمرِ بد اختر
کھینچے کیوں تیغوں کو ہاتھوں میں کھڑے ہو ششدر؟
ریگِ تفتیدہ پہ ہے غش میں علیؑ کا دلبر
جاؤ، کیا دیر ہے، کاٹو شہِ مظلوم کا سر
تیغ سے فاطمہؑ زہرا کا گلا چاک کرو
جلد ہاں خاتمۂ پنجتنِ پاک کرو
ایسے مظلوم کا سر کاٹنا کیا ہے دشوار
جس کا کوئی بھی مددگار، نہ ہمدرد، نہ یار
عورتیں ہیں کئی خیمے میں غریب و ناچار
مر چکے پہلے ہی جو خون کے تھے دعویدار
خوں بہا بھی نہ کوئی مانگنے کو آوے گا
اک پسر ہے، سو وہ بیمار ہے، مر جاوے گا
کانپ کر کہتے تھے سب، ہم سے نہ ہوگا یہ ستم
ذبحِ فرزندِ محمدؐ کو نہیں کرنے کے ہم
ایسے مظلوم کی چھاتی پہ جو رکھے گا قدم
پاؤں جل جائے گا، تھرائے گا عرشِ اعظم
پیٹتے قبر سے محبوبِ خدا ﷺ آویں گے
بخدا فاطمہؑ کی آہ سے جل جاویں گے
کون بے کس کو بھلا ذبح کرے بے تقصیر؟
پھرتا ہے کوئی پیاسے کے گلے پر شمشیر؟
گو کہ بے کس ہے، پہ آساں نہیں قتلِ شبیرؑ
حشر میں ہوئیں گے محبوبِ خدا ﷺ دامن گیر
تو سمجھتا ہے کہ اس کا کوئی خوں خواہ نہیں؟
بنتِ احمدؐ نہیں، حیدرؑ نہیں، اللہ نہیں؟
تھا جو دمساز عمر ابنِ نمیرِ اظلم
بڑھ کے تیغ اس نے سرِ شاہ پہ ماری اس دم
تا جبیں ہو گیا مجروح سرِ شاہِ امم
تھام کر سر کو پکارے یہ امامِ عالم
نہ میسر تجھے اس ہاتھ سے کھانا ہووے
تو تہی دست جہنم کو روانہ ہووے
چاہا ظالم نے کہ پھر شہؑ پہ کرے تیغ کا وار
دیکھا انگشت بدنداں ہیں رسولِ مختار ﷺ
خشک اس وقت ہوئے دستِ ستمگر اک بار
ہاتھ سے تیغ گری، خوف سے بھاگا خوں خوار
یاں سرِ پاک سے حضرت کے لہو جاری تھا
خم سوئے قبلہ تھے، بند آنکھیں تھیں، غش طاری تھا
جب تڑپنے کی بھی طاقت نہ رہی سرور کو
غل ہوا یہ کہ غش آیا، خلفِ حیدرؑ کو
فوج سے شمر بڑھا کھینچے ہوئے خنجر کو
سب سے کہتا تھا کہ اب کاٹو سرِ سرور کو
خلفِ احمدِ مختار کا قاتل ہوں میں
کام میرا ہے، اسی کام کے قابل ہوں میں
مجھ کو حیدرؑ سے غرض ہے نہ محمدؐ سے ہے کام
رو دیں محبوبِ خدا، ہووے خوشی حاکمِ شام
دولتِ فاطمہؑ لے جاؤں میں، پاؤں انعام
روحِ حیدرؑ کی ہو بے چین، مجھے ہو آرام
منہ نہ میں دولتِ دنیا سے کبھی پھیروں گا
آج زہراؑ کے کلیجے پہ چھری پھیروں گا
تیز کرتا ہوا خنجر کو گیا شہ کے قریں
آسماں ہل گیا، تھرا گئی مقتل کی زمیں
رو رو چلانے لگی زینبِؑ ناشادِ حزیں
غش میں بھی گھیرے ہیں، ہے ہے مرے بھائی کو لعیں
رحم زہراؑ کے پسر پر نہیں کھاتا کوئی
خاک سے بھی نہیں زخمی کو اٹھاتا کوئی
کس سے فریاد کروں، جا کے میں دکھیا، ہے ہے
نہ محمدؐ ہیں، نہ حیدرؑ ہیں، نہ زہراؑ، ہے ہے
لاکھ دشمن ہیں، مرا بھائی ہے تنہا، ہے ہے
تیغوں سے کٹتا ہے، زہراؑ کا کلیجا، ہے ہے
سروِ گلزارِ رسالت کو قلم کرتے ہیں
ہائے سیدؑ پہ، مسافر پہ ستم کرتے ہیں
گردِ زینبؑ کے تھا ناموسِ پیمبر کا ہجوم
بانو روتی تھی، کھڑی پیٹتی تھی سر، کلثوم
کہتی تھی دیکھ کے میداں کو سکینہؑ معصوم
اے پھوپھی! نرغۂ اعدا میں ہیں شاہِ مظلوم
جاؤں گی اب میں، ٹھہرنے کی نہیں آپ کے پاس
شمرؔ خنجر لیے جاتا ہے مرے باپ کے پاس
باپ کے پاس سے جا کر اسے سرکاؤں گی
جوڑ کر ہاتھوں کو منت سے میں سمجھاؤں گی
اپنے بابا کی میں چھاتی سے لپٹ جاؤں گی
خیمے تک ان کو سنبھالے ہوئے لے آؤں گی
بھوکے پیاسے مرے بابا کو نہ مارے کوئی
ان کے بدلے مرا سر تن سے اتارے کوئی
کتنا روکا اسے بانو نے، پہ ہرگز نہ رکی
چھوٹے سے ہاتھوں سے سر پیٹتی میداں کو چلی
پیچھے سر کھولے ہوئے خیمے سے زینبؑ نکلی
پہونچی رن میں تو سکینہؑ یہ عمر سے بولی
او لعیں! حیدرِؑ کرار کی پوتی ہوں میں
رحم کر! مجھ پہ کہ بن باپ کی ہوتی ہوں میں
دیکھ غربت کو مری، کر مرے بچپن پہ نظر
باپ مارا گیا میرا تو جیوں گی کیوں کر؟
سر پہ آوے گی یتیمی تو میں جاؤں گی کدھر؟
میں تو ہوں باپ کی شیدا، مرا عاشق ہے پدر
باپ بن ایک دم آرام نہ آوے گا مجھے
کون پھر رات کو چھاتی پہ سلاوے گا مجھے
ہنسلیاں اپنی گلے سے تجھے دیتی ہوں اتار
لے مرے کان کا دُر، پر مرے بابا کو نہ مار
ہاتھوں کو جوڑتی ہوں میں ترے آگے ناچار
منع کر دے کوئی، بیکس کو نہ مارے تلوار
گھر میں جو کچھ زر و زیور ہے، وہ لادوں گی میں
جان بابا کی بچے گی تو دعا دوں گی میں
بھیڑ میں مجھ کو نظر آتے نہیں بابا جاں
اتنا کہہ دے کہ سرک جائیں یہ سب بے ایماں
گرد پھر پھر کے میں ہوں اپنے پدر کے قرباں
جا کے دیکھوں گی بدن پر ہیں لگے زخم کہاں
دمِ آخر تو بھلا کام میں آؤں ان کے
اپنے کرتے سے لہو منہ کا چھڑاؤں ان کے
کتنا کہتی رہی وہ بنتِ شہِ عرشِ جناب
اس ستمگر نے دیا کچھ نہ سکینہؑ کو جواب
پیٹ کر سر کہا زینبؑ نے کہ او خانہ خراب!
تجھ کو آتا نہیں کچھ روحِ پیمبر سے حجاب
ظلم مت کر، اسد اللہ کی جائی ہوں میں
ننگے سر پردے سے باہر نکل آئی ہوں میں
میری اماں کا ہے مشہور جہاں میں پردہ
بعدِ رحلت بھی جنازہ نہ کسی نے دیکھا
اس کی بیٹی ہوں، ترے ظلم سے یہ وقت پڑا
سر برہنہ ہوں، گریباں بھی ہے کرتے کا پھٹا
منہ کو اللہ و پیمبر سے چھپاتا ہے تو
میں تو فریادی ہوں، اور آنکھ چراتا ہے تو
مارا جاتا ہے ترے سامنے زہراؑ کا پسر
دیکھتا ہے تو یہ تلواریں ہیں پڑتی کس پر
تیر کس کو لگے، غربال ہوا کس کا جگر؟
ذبح کرنے کو کسے کھینچے ہے ظالم خنجر
دلِ زہرا، جگرِ شیرِ خدا کٹتا ہے
ظلم سے تیرے محمدؐ کا گلا کٹتا ہے
قتلِ مظلوم کو کیوں کرتا ہے بے جرم و گناہ؟
اب تلک میں نے بہت صبر کیا ہے واللہ
دل جلی ہوں، میں ابھی سینے سے کھینچوں گر آہ
تو بھی جل جائے، تری فوج بھی ہو خاکِ سیاہ
بددعا دوں میں تو نازل ابھی آفت ہووے
سر کے بالوں کو جو کھولوں تو قیامت ہووے
غش میں حضرت نے سنے جبکہ یہ زینبؑ کے سخن
کھول کر دیدۂ پرخوں کو اٹھائی گردن
دیکھا سر ننگے کھڑی روتی ہیں مقتل میں بہن
بنتِ زہراؑ کو پکارے یہ شہنشاہِ زمن
کیا کیا تم نے کہ پردے سے کھلے سر نکلیں
جیتے جی میرے سر پردے سے باہر نکلیں
کس کو سمجھاتی ہو، کوئی نہ سنے گا فریاد
باز آئے گا نہیں قتل سے میرے جلاد
جتنا تم پیٹتی ہو، اور لعیں ہوتے ہیں شاد
حشر کے روز خدا دیوے گا اس خون کی داد
شوق مرنے کا ہے، سر تن سے جدا ہونے دو
جاؤ گھر میں، مجھے امت پہ فدا ہونے دو
گود میں میری سکینہؑ کو اٹھاؤ ہمشیر
کوئی اصغرؑ کی طرح مار نہ بیٹھے اسے تیر
پھر یہ بیٹی کو پکارے: ترے صدقے شبیرؑ
تو بھی جا ساتھ پھوپھی جان کے اب اے دلگیر
وقتِ طاعت ہے، ذرا یادِ خدا کر لیویں
ہم بھی اب آتے ہیں، سجدے کو ادا کر لیویں
کہہ کے یہ غش ہوئے پھر رن میں شہنشاہِ امم
شمرِ اظلم نے رکھا سینۂ اقدس پہ قدم
جگرِ فاطمہؑ زہرا پہ چلی تیغِ دو دم
آگے زینبؑ کے ہوئے ذبح حسینؑ، آہ ستم
پیٹ کر بنتِ شہنشاہِ زمن رونے لگی
باپ کو بیٹی، برادر کو بہن رونے لگی
میر انیس
پروفائل دیکھیں →میر بابر علی انیس (1800-1874) جنہیں میر انیس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک بھارتی اردو شاعر تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں اپنا تخلص (تخلّص) انیس (اردو:…
معلومات
- قسم: مرثیہ
- شاعر: میر انیس
- اشعار: 103
- ملاحظات: 30
رومن اردو میں پڑھیں
Roman Urdu