334 Poetry found
دستِ تعزیر چومنے والے ہم ہیں زنجیر چومنے والے
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے…
کون سی بات ہے تم میں ایسی اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو…
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ…
جانے والے کبھی نہیں آتے جانے والوں کی یاد آتی ہے
مجھ سے اب لوگ کم ہی ملتے ہیں یوں بھی میں ہٹ گیا ہوں منظر…
راکھیاں لے کے سلوں کی برہمن نکلیں تار بارش کا تو ٹوٹے کوئی ساعت کوئی…
سنا ہے محتسب بھی تاک میں ہے دخترِ راز کی الٰہی رکھ لے تُو حرمت…
دیکھیے ہوگا شری کرشن کا درشن کیوں کر سینۂ تنگ میں دل گویوں کا ہے…
دامن سے وہ پوچھتا ہے آنسو رونے کا کچھ آج ہی مزا ہے
دل میں ہو جذبۂ آتش تو ہر اک بات میں رنگ ورنہ خاک کے پتلے…