60 Ghazal found
ہنس کے بولا کرو، بلایا کرو آپ کا گھر ہے، آیا جایا کرو
ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے
ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا دوستوں کو کہاں پکارا تھا
وہ روشنی جو شفق کا لباس چھوڑ گئی مرے لیے تو وہ لمحے اداس چھوڑ…
جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا کمرہ رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا
مجھے پہلے تو لگتا تھا کہ ذاتی مسئلہ ہے میں پھر سمجھا محبت کائناتی مسئلہ…
ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے جیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ…
ﻣﺮﺗﯽ ﮨﻮئی ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ…
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں لگے گا، لگنے لگا ہے…
پڑا ہے ہجر تو ایسے ہی جی لبھاتے ہیں اب اس کے جادو بدن کے…
تیرے تصورات سے آگے نہیں گیا یہ دل توہمات سے آگے نہیں گیا
دستِ تعزیر چومنے والے ہم ہیں زنجیر چومنے والے