258 شعر ملی
بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہئےمیں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہئے
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہےنیند رکھو یا نہ رکھو خواب…
وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرامیں اس کے تاج کی قیمت لگا…
میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگگیلی زمین کھود کے فرہاد ہو گئے
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیںمحبت کی اسی مٹی کو…
ہم ایسے سادہ دلوں کی بھی کیا تغافل ہے جو پوچھتے ہیں یہی، کیوں خفا…
اب مجھ کو نظر آتی ہے ہر چیز میں برکت اک تیری رضا شاملِ حالات…
لے ہی چلے گا کچھ نہ کچھ، اس حسن کا جنوں رنگیں ہے بوئے گل،…
ہم نہ کہتے تھے کہ زوقؔ آخر یہ دن بھی آئے گا دیکھ لی ہم…
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو…
تُو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے زوق ہے برا وہی جو تجھ…
تم بھول کر بھی یاد نہیں کرتے ہو کبھی ہم تو تمہاری یاد میں سب…