جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا فوجِ خدا پہ سایۂ ابرِ کرم ہوا چرخ زبر جدی پے تسلیم خم ہوا پنجے پہ سات بار تصدق حشم ہوا دیکھا نہ تھا کبھی جو علم اس نمود کا دونوں طرف کی فوج میں غل تھا درود کا
وہ شان اس علم کی وہ عباس کا جلال نخلِ زمردی کے تلے تھا علی کا لال پرچم پہ جان دیتی تھیں پریوں کا تھا یہ حال غل تھا کہ دوشِ حور پہ بکھرے ہوئے ہیں بال ہر لہر آبدار تھی کوثر کی موج سے طوبیٰ بھی دب گیا تھا پھریرے کی اوج سے
تھا پنجتن کا نور جو پنجے میں جلوہ گر اعمیٰ کی پتلیوں میں بھی تھا روشنی کا گھر ذرے نثار کرتے تھے اٹھ اٹھ کے اپنا زر تکتے تھے فوق سے تو ملک تخت سے بشر اللہ ری چمک علمِ بوتراب کی تارِ نظر بنی تھی کرن آفتاب کی
قربان احتشام علمدار نام ور رخ پر جلالت شہ مرداں تھی سر بسر چہرہ تو آفتاب سا اور شیر کی نظر قبضے میں تیغ بر میں زرہ دوش پر سپر چھایا تھا رعب لشکرِ ابنِ زیادؔ پر غل تھا چڑھے ہیں شیر الٰہی جہاد پر
وہ اوج وہ جلال وہ اقبال وہ حشم وہ نور وہ شکوہ وہ توقیر وہ کرم پنجے کی وہ چمک وہ سر افرازیِ علم گرتی تھی برق فوجِ مخالف پہ دم بہ دم کیا رفعتِ نشانِ سعادت نشان تھی سائے میں جس نشان کے طوبیٰ کی شان تھی
میر انیس
پروفائل دیکھیں →میر بابر علی انیس (1800-1874) جنہیں میر انیس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک بھارتی اردو شاعر تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں اپنا تخلص (تخلّص) انیس (اردو:…
معلومات
- قسم: نوحہ
- شاعر: میر انیس
- اشعار: 6
- ملاحظات: 57
رومن اردو میں پڑھیں
Roman Urdu