334 شاعری ملی
فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر جہاں میں تم آئے تھے کیا کر…
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
اٹھ کر تو آگئے ہیں تری بزم سے مگر کچھ دل ہی جانتا ہے کہ…
صبا نے پھر در زنداں پہ آکے دی دستک سحر قریب ہے دل سے…
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا اور سکوں ایسا کہ مرجانے…
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہوتی ہے منافع چھوڑ دیتے ہیں خسارے بانٹ…
دل نا امید تو نہیں ، نا کام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی…
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے
ہم ایک عمر سے واقف ہیں، اب نہ سمجھاؤ کہ لطف کیا ہے مرے مہرباں،…
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا…