258 شعر ملی
اٹھ کر تو آگئے ہیں تری بزم سے مگر کچھ دل ہی جانتا ہے کہ…
صبا نے پھر در زنداں پہ آکے دی دستک سحر قریب ہے دل سے…
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا اور سکوں ایسا کہ مرجانے…
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہوتی ہے منافع چھوڑ دیتے ہیں خسارے بانٹ…
دل نا امید تو نہیں ، نا کام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی…
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے
ہم ایک عمر سے واقف ہیں، اب نہ سمجھاؤ کہ لطف کیا ہے مرے مہرباں،…
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا…
انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب…
عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کےاب وہ مجھے یاد تو آتا…
میں یہ سمجھا کہ فقط بچھڑ ئے ہیں ہائے قسمت، بھلا دیا اُس نے