کاپی ہو گیا ✓

مجلس ۱: مجالسِ حسینؑ

سورۂ فاتحہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

آج یکم محرم کی رات ہے، جو نئے اسلامی سال کا آغاز ہے۔

ہم اس سال کا استقبال خوشیوں، تقریبات یا جشن منا کر نہیں کرتے، بلکہ ہمارے دل غم اور افسوس سے بھرے ہوتے ہیں، کیونکہ ہمیں ان شہداء کی یاد آتی ہے جو کربلا میں شہید کیے گئے۔

آئندہ بارہ دن اور راتوں تک ہم مجالسِ حسینؑ برپا کرتے ہیں تاکہ امام حسینؑ، آپؑ کے اہلِ بیتؑ اور باوفا اصحابؓ کی شہادت کا غم منائیں۔

لفظ "مجالس" کا مطلب ہے ایسی نشستیں جہاں لوگ جمع ہو کر بیٹھتے ہیں۔

محرم کی ان مجالس میں ہم امام حسینؑ، آپؑ کے اہلِ بیتؑ اور اصحابؓ کی شہادت کے واقعات کو یاد کرتے ہیں، نیز ان اہلِ بیتؑ کی مصیبتوں اور تکالیف کا تذکرہ کرتے ہیں جو سانحۂ کربلا کے بعد زندہ رہے۔

سب سے پہلی مجلسِ حسینؑ آپؑ کی بہن بی بی زینبؑ نے اس وقت منعقد کی جب یزید نے انہیں قید سے آزاد کیا۔ تب سے لے کر آج تک تمام آئمۂ اہلِ بیتؑ اور ان کے پیروکار باقاعدگی سے مجالسِ حسینؑ منعقد کرتے چلے آ رہے ہیں۔

ہم یہ مجالس کیوں منعقد کرتے ہیں؟

ہم امام حسینؑ، آپؑ کے اہلِ بیتؑ اور اصحابؓ کی اس عظیم قربانی پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے مجالس منعقد کرتے ہیں، جو انہوں نے اسلام اور ہمیں بچانے کے لیے کربلا میں پیش کی۔

ہم یہ مجالس اس لیے بھی منعقد کرتے ہیں کہ ہم اپنے امامؑ سے محبت کرتے ہیں، اور جب کربلا میں ان پر ڈھائے گئے مظالم اور مصائب سنتے ہیں تو ہمارے دل غمگین ہو جاتے ہیں۔ نیز ہم بی بی فاطمہ زہراؑ، جو امام حسینؑ کی والدۂ گرامی ہیں، کی دلجوئی اور خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

روایات کے مطابق بی بی فاطمہ زہراؑ مجالسِ حسینؑ میں تشریف لاتی ہیں۔ اگرچہ ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے، مگر وہ ہمارے اور ہمارے اہلِ خانہ کی سلامتی کے لیے دعا فرماتی ہیں۔ جب ہم امام حسینؑ اور ان کے اہلِ بیتؑ کے غم میں اشک بہاتے ہیں تو وہ ان آنسوؤں کو جمع کرتی ہیں، اور روزِ قیامت یہی آنسو ہمارے لیے جہنم کی آگ سے نجات کا ذریعہ بنیں گے۔

اب ذرا ان باتوں پر غور کیجیے۔

اپنے اعمال کا جائزہ لیجیے کہ کیا وہ اتنے اچھے ہیں کہ آپ روزِ قیامت بی بی فاطمہ زہراؑ کا سامنا کر سکیں؟ اگر آپ اپنی واجب نمازیں پابندی سے ادا نہیں کرتے تو روزِ قیامت آپ بی بی فاطمہ زہراؑ کا سامنا کیسے کریں گے؟

آپ مجالسِ حسینؑ میں اس لیے آئے ہیں کہ آپ امام حسینؑ کی اس عظیم قربانی کے شکر گزار ہیں جس سے آپ کا دین محفوظ رہا۔ آپ امام حسینؑ کی محبت میں گریہ کرتے ہیں اور ماتم کرتے ہیں۔ اگر آپ واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں تو یقیناً آپ اسے خوش بھی کرنا چاہتے ہیں۔

اگر آپ باقاعدگی سے نماز ادا نہیں کرتے تو پھر امام حسینؑ کو کیسے خوش کر سکتے ہیں؟

مجالسِ حسینؑ قیامت تک جاری رہیں گی۔

یہ صرف ہماری وجہ سے نہیں، بلکہ ہم تو صرف وہ ذریعہ ہیں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ امام حسینؑ کی عظیم قربانی کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ امام حسینؑ نے اللہ کے دین کو بچانے کے لیے اپنی جان قربان کی، اور اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ قیامت تک امام حسینؑ کے نام اور ان کی عظیم قربانی کو زندہ رکھے گا۔

مجالسِ حسینؑ! ماتمِ حسینؑ!

اسلام کے دشمن ہزار کوششیں بھی کر لیں، وہ نہ مجالسِ حسینؑ کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی ماتمِ حسینؑ کو۔

یکم محرم کا واقعہ

یکم محرم کو امام حسینؑ کا قافلہ کربلا کے قریب پہنچ چکا تھا۔ رات گزارنے کے لیے خیمے نصب کیے گئے۔

امام حسینؑ اور آپؑ کی بہن حضرت زینبؑ خیمے کے باہر کھڑے گفتگو کر رہے تھے۔

دونوں نے مل کر یکم محرم کا چاند دیکھا۔

امام حسینؑ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

حضرت زینبؑ پریشان ہو گئیں اور عرض کیا:

"میرے پیارے بھائی حسینؑ! آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں؟"

امام حسینؑ نے فرمایا:

"زینب! میری بہن زینب! میرے لیے دعا کرو کہ میں اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر سکوں۔ دعا کرو کہ اسلام کو بچانے کے اپنے مشن میں کامیاب ہو جاؤں۔ زینب! دعا کرنا کہ اسلام کی خاطر اپنی جان قربان کرنے میں مجھے کوئی تردد نہ ہو۔"

امام حسینؑ اس لیے نہیں رو رہے تھے کہ انہیں اپنی موت کا خوف تھا۔ انہوں نے اپنی بہن سے اپنی جان بچانے کی دعا نہیں کروائی، بلکہ ان کی تمام فکر صرف اسلام اور امت کی بقا تھی۔

یہ سن کر حضرت زینبؑ کی آنکھیں بھی اشکبار ہو گئیں۔

امام حسینؑ نے فرمایا:

"میری پیاری بہن زینب! مت رو۔ میرے بعد تمہیں مجھ سے بھی بڑی ذمہ داری ادا کرنی ہے۔ بہادر اور صابر رہنا۔"

حضرت زینبؑ اپنے خیمے میں تشریف لے گئیں، اور حضرت علی اکبرؑ اپنے والد امام حسینؑ کے پاس آ گئے۔

امام حسینؑ نے فرمایا:

"بیٹے علی اکبرؑ! میں نے گزشتہ رات ایک خواب دیکھا۔ میں نے لوگوں کے ایک قافلے کو دیکھا جو ایسی منزل کی طرف جا رہا تھا جہاں موت ان کی منتظر تھی، اور میں نے دیکھا کہ وہ سب ایک ایک کر کے شہید ہو گئے۔"

حضرت علی اکبرؑ نے عرض کیا:

"بابا جان! میں ان لوگوں کو جانتا ہوں۔ وہ ہم ہی ہیں۔ مگر ایک بات بتائیے، کیا ہم حق کے راستے پر ہیں؟"

امام حسینؑ نے فرمایا:

"ہاں، میرے بیٹے اکبرؑ! ہم حق ہی کے راستے پر ہیں۔"

حضرت علی اکبرؑ نے عرض کیا:

"تو پھر ہمیں کسی بات کی فکر نہیں ہونی چاہیے۔ بابا جان! اگر ہم حق پر ہیں تو ہمیں خوشی خوشی شہادت قبول کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے اور موت کا استقبال مسکراتے ہوئے کرنا چاہیے۔"

امام حسینؑ نے فرمایا:

"میرے بیٹے اکبرؑ! مجھے تم پر فخر ہے۔"

ماتمِ حسینؑ
تفصیل

رومن میں پڑھیں

Roman Urdu