توقیر عباس
3 compositions
ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا دوستوں کو کہاں پکارا تھا
وہ روشنی جو شفق کا لباس چھوڑ گئی مرے لیے تو…
ﻣﺮﺗﯽ ﮨﻮئی ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ…