258 Sher found
ہر بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائےکبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا…
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دوچار کتابیں پڑھ کر یہ بھی…
اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والاہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے…
کوشش بھی کر، امید بھی رکھ، راستہ بھی چنپھر اس کے بعد تھوڑا مقدر…
دھوپ میں نکلوں، گھٹاؤں میں نہا کر دیکھوںزندگی کیا ہے؟ کتابوں کو ہٹا کر…
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمیجسے بھی دیکھنا ہو، کئی بار دیکھنا
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتاکہیں زمین، کہیں آسمان نہیں ملتا
شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئےایسی گرمی ہے کہ پیلے…
میں مر جاؤں تو میری ایک الگ پہچان لکھ دینالہو سے میری پیشانی پہ…
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدندوستو مجھ پر کوئی پتھر…
ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستودوستانہ زندگی سے موت سے یاری…
بوتلیں کھول کر تو پی برسوںآج دل کھول کر بھی پی جائے