258 Sher found
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے،…
عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالبؔ کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے…
رنج سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی…
کوئی امید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی
ہو چکی ہیں غالبؔ بلائیں سب تمام ایک مرگِ ناگہانی اور ہے
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انسان…
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکل ےبہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر…
دلِ نادان تجھے ہوا کیا ہے؟آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار…
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئی…
پہلے خوشبو کے مزاجوں کو سمجھ لو محسن پھر گلستان میں کسی گل سے محبت…