258 Sher found
اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہےسمٹے تو دلِ عاشق، پھیلے تو زمانہ…
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیںوہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں
دل میں کسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میںکتنا حسین گناہ کیے جا…
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکامسکرا کر تم نے دیکھا…
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میںجیسے ہر شے میں…
زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہموت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا…
آج ایک اور برس بیت گیا اس کے بغیرجس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے…
آدمی آدمی سے ملتا ہےدل مگر کم کسی سے ملتا ہے
یہ پرچھائیاں، یہ خامشی، یہ تنہائی یہ رات، یہ ہجر، یہ درد کی گہرائی
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
تاج تیرے لیے اک مظہرِ الفت ہی سہی تجھ کو اس وادیِ رنگیں سے عقیدت…
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل میری کہانی ہے