Home
Poetry
Categories
آوازِ قلم
Poets
About Us
Contact Us
roman
آوازِ قلم
Home
Poetry
Categories
Poets
About Us
Contact Us
roman
شعر
فراق گورکھپوری
اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیں
کتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاں
شعر
آئے تھے ہنستے کھیلتے مئے خانہ میں فِراق جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے
ہم سے کیا ہو سکا محبت میں خیر تم نے تو بے وفائی کی
جو اُلجھی تھی کبھی آدم کے ہاتھوں وہ گتھی آج تک سلجھا رہا ہوں
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھ کو اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
اب آ گئے ہیں آپ تو آتا نہیں ہے یاد ورنہ کچھ ہم کو آپ سے کہنا ضرور تھا
ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرہ ہے نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہگزر پھر بھی
گرز کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوست وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں
نسیب میں کچھ رشتہ ادھورے ہی لکھے ہوتے ہیں لیکن ان کی یادیں بہت خوبصورت ہوتی ہیں