غزل

Ada Jafri

آدا جعفری

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید 

راہ میں سنگ وفا تھا شاید

اس قدر تیز ہوا کے جھونکے 

شاخ پر پھول کھلا تھا شاید

جس کی باتوں کے فسانے لکھے 

اس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید

لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے 

وہم سا دل کو ہوا تھا شاید

تجھ کو بھولے تو دعا تک بھولے

 اور وہی وقت دعا تھا شاید

خون دل میں تو ڈبویا تھا قلم 

اور پھر کچھ نہ لکھا تھا شاید

دل کا جو رنگ ہے یہ رنگ اداؔ 

پہلے آنکھوں میں رچا تھا شاید

غزل