Home
Poetry
Categories
آوازِ قلم
Poets
About Us
Contact Us
roman
آوازِ قلم
Home
Poetry
Categories
Poets
About Us
Contact Us
roman
شعر
راحت اندوری
وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا
میں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا
شعر
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں
میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگ
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہئے
بوتلیں کھول کر تو پی برسوں
ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن
میں مر جاؤں تو میری ایک الگ پہچان لکھ دینا
شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے