Home
Poetry
Categories
آوازِ قلم
Poets
About Us
Contact Us
roman
آوازِ قلم
Home
Poetry
Categories
Poets
About Us
Contact Us
roman
شعر
ساحر لدھیانوی
تاج تیرے لیے اک مظہرِ الفت ہی سہی
تجھ کو اس وادیِ رنگیں سے عقیدت ہی سہی
شعر
یہ کوٹھے، یہ بازار، یہ چکلے، یہ گندی نالیاں یہ بیچتی ہوئی عورت، یہ خریدتے ہوئے مرد
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل میری کہانی ہے
تاج تیرے لیے اک مظہرِ الفت ہی سہی تجھ کو اس وادیِ رنگیں سے عقیدت ہی سہی
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
یہ پرچھائیاں، یہ خامشی، یہ تنہائی یہ رات، یہ ہجر، یہ درد کی گہرائی