Home
Poetry
Categories
آوازِ قلم
Poets
About Us
Contact Us
roman
آوازِ قلم
Home
Poetry
Categories
Poets
About Us
Contact Us
roman
شعر
فراز احمد
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
شعر
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
چاہتے ہو تم کہ میں بدل جاؤں خود کو کھو دوں، تمہیں حاصل ہو جاؤں؟
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
میں جس کے ہاتھ میں اک جام دے کے آیا تھا اسی کے ہاتھ میں پتھر تھا، دل نہیں تھا
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
میں کہاں رکھتا ہوں دکھ اپنے زمانے کے لیے اک تیری خاطر بہت دکھ سہے ہیں میں نے
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ