Home
Poetry
Categories
آوازِ قلم
Poets
About Us
Contact Us
roman
آوازِ قلم
Home
Poetry
Categories
Poets
About Us
Contact Us
roman
شعر
ذوق
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
شعر
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں
ایک آنکھ نے ڈبویا مجھ کو ان کی محفل میں
مرَضِ عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
تم بھول کر بھی یاد نہیں کرتے ہو کبھی
تُو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے زوق
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ہم نہ کہتے تھے کہ زوقؔ آخر یہ دن بھی آئے گا
لے ہی چلے گا کچھ نہ کچھ، اس حسن کا جنوں
اب مجھ کو نظر آتی ہے ہر چیز میں برکت
ہم ایسے سادہ دلوں کی بھی کیا تغافل ہے