Home
Poetry
Categories
آوازِ قلم
Poets
About Us
Contact Us
roman
آوازِ قلم
Home
Poetry
Categories
Poets
About Us
Contact Us
roman
شعر
خواجہ حیدر علی آتش
جگر کے پار ہو جاتی ہیں باتیں دل کی جو نکلیں
زباں قابو میں ہو تو دل کے ارماں کیوں نکلتے؟
شعر
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
عشق نے آتشؔ ہمیں یہ دن دکھائے ہیں
نہ پوچھ حال مرا عشق کی تباہی میں
تمہیں ہو نہ ہو، مجھ کو تو اعتبار ہے
دل دیا دل لگی میں ہم نے، یہ خطا کی بڑی سزا پائی
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
آتشؔ کسی کے عشق میں دنیا کو کیا سمجھ
کیا لطف زندگی کا، جو کچھ طوفاں نہ ہوں درپیش
دل میں ہو جذبۂ آتش تو ہر اک بات میں رنگ