Home
Poetry
Categories
آوازِ قلم
Poets
About Us
Contact Us
roman
آوازِ قلم
Home
Poetry
Categories
Poets
About Us
Contact Us
roman
شعر
میر تقی میر
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
شعر
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
ابتداء عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
پتہ پتہ، بوٹا بوٹا، حال ہمارا جانے ہے، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے
بعد مرنے کے میری قبر پہ آیا وہ 'میر'، یاد آئی مرے عیسیٰ کو دوا مرے بعد
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے، عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
بے خودی لے گئی کہاں ہم کو، دیر سے انتظار ہے اپنا
میرے ہونٹوں پہ کسی لمس کی خواہش ہے شدید، ایسا کچھ کر مجھے سگریٹ کو جلانا نہ پڑے
میں کس سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط، جہاں سے کوئی گزرتا نہیں وہاں ہوں میں
یاد تصویر میں تنہا ہوں مگر لوگ ملے، کئی تصویر سے پہلے کئی تصویر کے بعد
شام بسر کرنی ہے، محفوظ ٹھکانا ہے کوئی، کوئی جنگل ہے یہاں پاس میں؟ صحرا ہے کوئی؟
میرے ہاتھ پکڑ لے پاگل جنگل ہے، جتنا بھی روشن ہو جنگل، جنگل ہے