Home
Poetry
Categories
آوازِ قلم
Poets
About Us
Contact Us
roman
آوازِ قلم
Home
Poetry
Categories
Poets
About Us
Contact Us
roman
شعر
کیفی اعظمی
بہار آئی تو جیسے یک بار
لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
شعر
میں اکیلا چلا تھا جانبِ منزل مگر
زندگی ایک نظم ہے، جو ہر پل بدلتی ہے کبھی ہنستی، کبھی روتی، کبھی چپ سی رہتی ہے
کیا دن تھے جب ہم ایک ہوا کرتے تھے اب تو یادیں بھی جدا ہو گئیں
یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں
ایک محل ہو خواب سا جس میں ہم ہوں تم بھی ہو
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر ہم غریبوں کی محبت کا اُڑایا ہے مذاق
دورِ غم میں بھی یہ لب خنداں رہے غم کی اس رہگزر میں ہم تنہا نہ رہے
یہی تو ہے وہ مکاں، جسے تم نے بنایا ہے یہی تو ہے وہ دیوار، جسے تم نے سجایا ہے
اٹھ میری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے زندگی جہد میں ہے سب کچھ، کہیں کچھ بھی نہیں